نواز شریف تا حیات ناہل، اور ان کے بچے اعلی عدلیہ کے تحت مزید تفتیش و نالش کے اہل ٹھہرے۔ گویا اچانک جوہری دنیا الٹ گئی ہے، الیکٹرون مرکزے و پروٹون مداروں میں بھیج دئیے گئے ہوں۔ ایک ایسا سیاسی زلزلہ جس کی تھرتھراہٹ تاحال محسوس کی جا سکتی ہے۔۔
ایک عام تاثر جو کچھ حلقوں میں خدشہ تو کچھ میں امید رہا، کہ نواز شریف کو ان کے لندن فلیٹس کی وجہ سے نااہل کیا جائےگا، غلط ثابت ہوا۔ اعلی عدلیہ نے ان کے عربی ملک کے اقامہ کو سامنے رکھ کر ان کو 62اور 63 کی چھاننی میں چھان ڈالا۔
مگر کیا اقامہ رکھنا اور تنخواہ نہ لینا ایسا ہی بڑا جرم ہے کہ تاحیات نا اہل قرار دے دیا جائے؟
کیا اقامہ و غیر وصول شدہ تنخواہ ہی اصل ماجرا ہیں؟
کیا یہ بات اتنی ہی سادہ ہے جتنی محسوس کی جا رہی ہے؟
یہ بات نہ تو اتنی سادہ ہے نہ یہ جرم اتنا چھوٹا، بظاہر یہ بہت خطرناک جرم ہے جس کا ایک منظر نامہ کچھ یوں ہے۔
فرض کیجیئے ایک صاحب کی کچھ غیر وصول شدہ رقم (تنخواہ یا دیگر ادائیگی) کسی دوسری کمپنی میں موجود ہے۔ تو یہ رقم دراصل انہیں صاحب کی ہے فقط کسی دوسری جیب میں ہے۔ اس کے تمام قانون حقوق انہیں صاحب کے پاس ہیں اور یہ رقم وصول کیے جانے کو موجود بھی ہے۔
اب ایسی رقم اور ذریعہ آمدن کو چھپانا اور قانونی کاغذات پر ان کا ذکر نہ کرنا ایک بڑا جرم ہے۔ اس سے غیرآئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہونے کےساتھ ساتھ ایسے ذرائع کے حامل کا غیر دیانتدار ہونا، کذاب ہونا اور دغاباز (فراڈ) ہونا ثابہت ہوتا ہے۔ جوکہ آئین پاکستان کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کے سراسر خلاف ہے۔ اور ایسا کرنے والا صادق و امین نہیں رہ پاتا۔
فرض کیجئے کہ ان صاحب کی ایک کاروباری کمپنی ہے جس کے وہ منتظم اعلی ہیں۔
اس کمپنی کے کیش اکاوںٹ میں وہ تنخواہ یا رقم موجود ہے جو انہوں نے نہیں وصولی، اور ان کے کیش اکاونٹ میں وہ موجود نہیں۔ آڈٹنگ یا حساب کے مطابق آپ کی بیلنس شیٹ بھی خراب اور کمپنی کی بھی جس کو انکم ٹیکس یا آڈٹنگ دونوں ہی مشکوک قرار دیں گے۔
اب اتنا ہی نہیں، اگر انہوں نے اپنے اس ذریعہ آمدن اور پیسہ کو انکم ٹیکس سے چھپایا تو وہ مجرم بھی ہیں۔
اب اتنا ہی نہیں، اگر انہوں نے اپنے اس ذریعہ آمدن اور پیسہ کو انکم ٹیکس سے چھپایا تو وہ مجرم بھی ہیں۔
اگر یہی کام کاغذات نامزدگی پر کیا جائے تو یہ آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے خلاف ہے۔
ایک "تناظر" یہ بھی بنتا ہے، چونکہ وہ صاحب ایک دوسرے ملک میں کام کر رہے ہیں، تو اس ملک کے اقامہ یعنی رہائشی اجازت کو استعمال کرتے ہوئے بنک اکاونٹ بھی بنائے ہوں گے۔ جن کو استعمال کرتے ہوئے کالا دھن جمع کیا جاتا ہو گا۔ اب چونکہ وہ اکاونٹ دوسرے ملک میں ہیں، تو ریاست پاکستان کے پاس حق نہیں کہ وہ براہ راست ان پر نظر ڈال سکے۔ اس طرح وہ کالا دھن چھپا رہتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نواز شریف صاحب ذریعہ ترسیل رقم ثابت کرنے تو کجا بتانے سے بھی قاصر رہے، تو لازم ہے کہ رقم ایسے اکاونٹ میں رکھی جائے جس کا پاکستان سے تعلق نہ ہو کیوں کہ یہ سمگل شدہ، غیر قانونی رقم ہے۔
اگر یہ رقم اتنی زیادہ ہو کہ اس سے ریاست پاکستان کو بڑا نقصان پہنچے تو یہ ہائی ٹریزن یعنی غداری کا جرم ہے۔ اور ایسی صورت میں آئین پاکستان کی شق چھ کے تحت مقدمات بنتے ہیں۔
اگر ایسا بڑا نہیں تو پھر بھی یہ نااہل کرنے کا کافی ہی نہیں کافی سے زیادہ ہے۔
یہ میری رائے ہے۔ آپ کی رائے اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔
شکریہ
وارثیؔ

