• Home
    • English
    • Urdu
  • About
  • BLog
    • Human Rights
    • Geo-Politics
    • Civil Engineering
      • Solids
      • Geotechnical Engineering
      • Finite Element Analysis & Design
    • Tech
    • Software
      • Excel
      • MATLAB
      • CSI SAP2000
      • CSI ETABS
      • STAAD Pro
  • Shop
  • Feedback
facebook twitter instagram pinterest bloglovin Email

گزارشاتِ وارثی

فیض آباد، اسلام آباد اور کراچی میں مکمل ناکہ بندی، ایک جانب ریاستی مشینری تو دوسری جانب قانون ختم نبوت کے حامی۔


سادہ الفاظ میں یہ ایک بچگانہ حرکت کا نتیجہ ہے، جس کے مطابق ایک ایسا قانون جو ہزاروں جانوں کی قربانی کے بعد وجود میں آیا، اور جو ایک ایسے بیانیہ پر مشتمل ہے جو کہ سوا ارب مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، ایسے اہم قانون کو ختم کرنے کی سازش یا حرکت کی وجہ سے علمائے پاکستان کی جانب سے احتجاج اور اس پر ریاستی مشینری کے طاقت کے استعمال کی وجہ سے تشدد کی راہ ہموار ہوئی۔

مگر کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے؟ 

کیا وجہ ہے کہ یہ مسلہ تبھی درپیش ہوا، یہ قانون تبھی بدلا گیا جب نواز شریف نا اہل ہوے جب باقر نجفی رپورٹ منظر عام پر آنا تھی اور چھوٹے میاں صاحب جناب شہباز شریف کی کرپشن بے نقاب ہونے کو تھی؟ 


ایسے حالات میں کہ جب ملک کے بچے بچے کی زبان پر پانامہ کا ذکر تھا اور گلی گلی میں چوک چوراہوں پر چائے کے کھوکھوں سے ریستورانوں تک، ہسپتالوں کے ویٹنگ رومز میں اور حجام کی دوکانوں پر گلی کی نکر پر موجود جوتے پالش کرنے والے کے بنچ سے یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا تک ہر جگہ آئی سی آئی جے کے کارنامہ یعنی پانامہ لیکس اور اس کی زد میں آنے والے کرپٹ، بد عنوان اور بدکار (یعنی برے کام کرنے والے) لوگوں کا ذکر ہو رہا تھا؛ اچانک شہباز شریف کو یہ سوجھی کہ کسی طرح بڑے بھائی کو مزید گندا کیا جائے تاکہ اگلی بار وزیراعظم وہی بنیں۔

چنانچہ وزیر قانون زاہد حامد خان، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، چوہدری نثار علی خان اور دیگر سیاسی گدھوں (اگ کے نیچے زیر ہے) کے ساتھ مل کر قانون کو بدلا اس سے مقاصد درج ذیل ہیں 
  • نواز شریف کو سیاست سے نکالنا۔
  • فوج اور عوام کو آمنے سامنے لانا۔
  • باقر نجفی رپورٹ کو رکوانا
  • کوشش کرنا کہ مارشل لاء کا نفاذ ہو تاکہ آمر اور ڈکٹیٹر کا رونا رویا جا سکے اور سیاسی شہید بنا جا سکے۔
  • کرپشن چھپائی جا سکے۔
  • وقت آنے پر ملک سے باہر بھاگا جا سکے کہ جان کو خطرہ ہے۔
  • ملائیت کو جیب میں ڈالا جا سکے 
لہٰذہ یہ بات بھی بعید نہیں کہ مولوی خادم رِضوی صاحب اور ان کے مخالف ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو شہباز شریف کی تھپکی ہی حاصل ہو۔
ملاحظہ کیجئے کہ بھکی شریف جو کہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قصبہ ہے، سے لاہور تک کسی نے ان کو نہ روکا۔
اور اسی طرح پنجاب عبور کر کے اسلام آباد آنے والے رضوی صاحب کو بھی کسی نے نہ روکا۔

فیض آباد دھرنا، کون صحیح کون غلط؟

یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ 
ختم نبوت قانون کوئی ٹریفک قوانین کا حصہ نہیں کہ جب چاہو بدل دو۔ یہ نصِ قرآنی سے ہے اور اصول دین سے یعنی اس کو دنیا کی کوئی دستور ساز اسمبلی نہیں بدل سکتی۔ اس کو آئین سے نکال بھی دیا جائے تو مسلمان وہی ہو گا جو توحید، رسالت اور ختم نبوت و رسالت پر کامل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو گا۔ 
ایسے میں چند غنڈوں اور گماشتوں کے بل پر اس قانون میں تبدیلی کی کوشش انہائی گھٹیا فعل اور غیر ذمہ دارانہ فعل تھا۔

یہاں تک تو حکومت کا ہی قصور نظر آتا ہے۔

اب ذرا مولوی خادم رضوی جن کا پورا نام خادم حسین ہے، کی بات کرتے ہیں۔
مولوی صاحب کی تقاریر خواتین اور بچوں کے لیے تو نہیں ہیں۔ معلوم پڑتا ہے کہ ہالی ووڈ کی اٹھارہ سال سے زائد افراد کی فلم ہے۔ جس میں گالیوں کی بہتات ہے۔
مولوی صاحب کا نفسیاتی تجزیہ یہ بتلاتا ہے کہ ان کے نزدیک دنیا انہیں کے گرد گھومتی ہے لہذہ ما سوا مولوی صاحب سب ہیچ ہے۔

موصوف اپنے ہی ساتھی مولوی اشرف آصف جلالی کے بھی خلاف ہیں اور چھ سو سے زائد صفحات کا فتوٰی دہشت گردی کے خلاف دینے والے عالم ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی عبدالستار ایدھی کو بھی ننگ انسانیت قرار دیتے ہیں۔ 

مگر پھر بھی کیوں عوام کی کثیر کی تعداد ان کے ساتھ ہے؟ 
اس کی دو وجوہات ہیں۔
اول تو یہ کہ ان کا موقف فی الوقت درست ہے۔
دوم یہ کہ وہ عوام کی روز مرہ کی زبان میں ہی گفتگو کرتے ہیں۔ انہی کی طرح بات بات میں گالی اور نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذہ عوام ان کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں کوئی غیر نہیں۔ 

اکثر ان کے مخالفین ان کو ملا گالم گلوچ بھی کہا کرتے ہیں۔ 
اور تو اور ان کا علامہ محمد اقبال کے بارے بھی عجیب انداز بیان ہے۔

ادب شاید انہوں نے تین حروف میں پڑھا۔۔۔ الف، دال اور بے 
مگر یہ بات واضع رہے کہ فی الوقت مولوی صاحب کا موقف درست ہے وہ لوگ جنہوں نے ایسی جسارت کی لازماً مستعفی ہونے چاہییں۔ 

مگر یاد رہے۔۔۔ مولوی خادم رضوی نہ اسلام ہے نہ اسلام کا نمائندہ۔ 

سیاست اور طاقت کا پٹھو اس سے زائد کچھ بھی نہیں۔ 

مزید دیکھیے 

تجھے یوں نکالا
Why Disqualification Over Iqamah?
اقامہ کی بنیاد پر نا اہلی؟ چہ معنی دارد؟
Is this beginning of the end of Sharif Regime?
What happened in Model Town? Justice and Justifications
Share
Tweet
Pin
Share
No تبصرے
کیا متحدہ مجلس عمل، اسلامی طرز عمل کی نمائندہ ہے؟ یا منافقانہ ملائیت کا نام؟

متحدہ مجلس عمل کی مختصر تاریخ

1993ء کی بات ہے، تمام جماعتیں جو اسلام کا نام لے کر سامنے آئیں،’’Islamic Front‘‘ کے نام سے متحد ہوئیں اور جلد ہی ’’کرسی‘‘ کی دوڑ نے انہیں عیاں کر دیا۔ جب خواتین کی حکومت کو حرام قرار دینے والے یہ نام نہاد ملا پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر بینظیر بھٹو کی حمایت میں نکل پڑے اس کام میں ہمیشہ کی طرح مولوی فضل الرحمن آگے آگے رہے۔ 
اس کے بعد ملائیت کو اکٹھا ہونے کا موقع نہ ملا۔ کیوں کہ ملائیت کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک شوشہ یا ایک حادثہ چاہیے ہوتا ہے جس کی وہ ہمیشہ گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں۔ 

یہ دعا یا بدعا کہیے، قبول ہوئی جب 2001ء میں امریکہ پر حملہ ہوا اور جواباً امریکہ نے بھی آؤ دیکھا نا تاؤ اور مسلم ممالک پر پل پڑا۔ اس دوران بھارت، اسرائیل اور روس کی مکمل کوشش تھی کہ امریکہ کو پاکستان سے لڑا دیا جائے۔ اور پھر ایک جانب سے امریکہ و روس تو دوسری جانب سے بھارت حملہ کر کے اپنے اپنے سینے میں ٹھنڈ ڈال لیتے۔ 
Image result for mulla fazal ur rehman
اس وقت پاکستان میں ضیاء الحق کے سیاسی انڈے سے نکلنے والے نواز شریف ہوتے تو شاید یہ سب ہو بھی جاتا مگر حکومت پرویز مشرف کی تھی، جو کہ عیاری میں زرادری سے کم نہ تھا۔ پھر یوں ہوا کہ امریکہ کو اگلے دس سال یہی سمجھ نہ آسکی کہ طالبان سے لڑنا کیسے ہے۔ اور جب اپنی ہی غلطیوں پر پشیمان ہونےکاوقت آیا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مطابق ارد گرد شور مچانا شروع کر دیا۔ 

اسی عالمی حادثہ یعنی امریکہ اپنے ہزاروں بے گناہوں کے بدلے لاکھوں بے گناہوں کے قتل عام کے شور میں موقع پرست ملاوں کے ٹولے پھر اکٹھے ہوئے اور نئی پارٹی متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی۔ 

متحدہ کا حکومت میں آنا

پاکستانیوں کی بدقسمتی کہیے کہ ملائیت کے نعروں سے متاثر ہو کر انہیں ملاوں کے ٹولے کو تب کے شمال مغربی سرحدی صوبہ اور آج کے خیبر پختونخواہ کی حکومت دلا دی۔ 
مگر حکومت کا ملنا گویا بندر کے ہاتھ ماچس کا کام کر گیا۔ 
متحدہ نے مسلم لیگ ن اور تب کی پیپلز پارٹی اور آج کی زرداری لیگ کو خوب گالیاں بکیں اور ساتھ ہی جہاں جہاں ان پارٹیوں کی حکومت تھی وہاں ان سے الائنس بھی کیا۔ 
Image result for mulla fazal ur rehman
اس کے بعد یہ ملا اتحاد گرگ اشتی ثابت ہوا جب کرسی کے لیے یہ اسلام کے ٹھیکیدار پھر باہم دست و گریباں ہو گئے۔
مثلاً 2002ء کے انتخابات میں جمیعت علمائے اسلام سمیع الحق نے فضل الرحمن گروپ پر تجاوز کا الزام لگایا۔
پھر 2004ء میں مولوی سمیع الحق نے تسلیم کیا کہ متحدہ مجلس عمل اپنے منشور میں ناکام رہی۔ 

پختون خواہ (سرحد) کا مالیاتی دیوالیہ 

متحدہ مجلس عمل ملک میں بے روزگاری ختم کرنے اور غربت کو کم کرنے کا نعرہ لگا کر آئی اور یہ عندیہ دیا کہ وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ ملک کو چلا سکے۔
اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ تب بھی اب کی طرح یہ بات عام شہری کے ذہن میں نقش تھی کہ دین کے نام پر بننے والے مدارس وضو و طلاق کے مسائل تو بتلا سکتے ہیں مگر معیشت و سیاست نہیں چلا سکتے۔ جس کو متحدہ نے بارہا ثابت کیا۔ 
2003ء میں سالانہ رپورٹ کے مطابق پختون خواہ (سرحد) کا مالیاتی دیوالیہ قریب تھا۔ جبکہ کرپشن کی گندی ترین مثالیں قائم کی جارہی تھیں۔ 
اس کے علاوہ متحدہ نے بہت سے ریاستی ادارے جو اس کے کنٹرول میں آئے، بیچ ڈالے۔ اور پیسہ ہڑپ کر لیا۔ 

متحدہ لاقانونیت

جیسا کہ بیان کیا، متحدہ کے ملاوں کو طاقت ملنا ایسا ہی تھا جیسا بندر کے ہاتھ ماچس، پھر یوں ہوا کہ طاقت کے نشے میں متحدہ کے غندہ گرد ملاوں نے معصوم لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر گلیوں میں گھمایا (2005)
پھر اس کے بعد عوام کے پیسے کو نواز شریف اور زرداری کی طرح باپ کا مال سمجھ کر متحدہ نے اپنے اسلامی ملاوں کے لیے ملت ’کفر‘ سے دو فرانسیسی ہیلی کاپٹر بھی خریدے۔ جن کی مالیت 105000000 Rs تھی۔
Related image
غرض کہ پاکستانیوں کو دونوں متحدہ سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اتنی ہی شدید ہے جتنی ایک انسان کو سانپ، نواز شریف اور زرداری سے بچنے کی ہوتی ہے۔ وہ متحدہ ہیں، متحدہ مولوی اور متحدہ قومی موومنٹ۔ 

Please like and share https://goo.gl/CWJka7
Share
Tweet
Pin
Share
No تبصرے
مجھے کیوں نکالا؟ جواب: تجھے یوں نکالا!
you can fool all the people for some of the time, some of the people all the time but you cannot fool all the people all the time”. ~Quoted by Supreme Court of Pakistanــ
’’آپ، تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں، کچھ کو ہمیشہ کے لیے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔‘‘
Image result for ‫مجھے کیوں نکالا‬‎
پانامہ کے فیصلہ پر ملک میں دو طرح کا شور اٹھا، ایک تو اس فیصلہ کی خوشی میں حزب اختلاف کی خوشی کا شور تھا تو دوسری طرف، برطرف اور ناہل ہونے والے حکمران میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کاکہرام۔ اس دوران نواز شریف نے ملک بھر میں شور مچایا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یعنی کس بناء پر انہیں برطرف کیا گیا۔۔۔
اللہ اللہ ان کی معصومیت
خیر جب ان کو وجہ بتائی گئی کہ آپ نے پاکستانی وزیر اعظم ہوتے ہوئے دوسرے ملک کا ورک پرمٹ (اقامتی و کاروباری اجازت نامہ، اقامہ ) لیا اور پھر اس پر کام کرتے ہوئے جو کچھ کمایا اس کو اپنے اثاثہ جات میں شمار نہیں کیا، تو نواز شریف نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا۔
پانامہ فیصلے کی نظر ثانی اپیل میں یہ سوال نہیں کیا گیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر کیوں نکالا گیا، بلکہ یہ اعتراض کیا گیا کہ
اعتراض:  جو تنخواہ نہ لی جائے وہ اثاثہ میں آتی ہی نہیں تو شمار کیا کرنا؟
جواب: اثاثہ صرف کیش یعنی نقد رقم کو نہیں کہتے، بلکہ ہر وہ چیز جو مال کے زمرہ میں آتی ہو اور اس کو کیش میں بدلا جا سکے اور ملکیت میں ہو، اثاثہ کہلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، پلاٹ، گاڑی وغیرہ اثاثہ ہیں۔ جو تنخواہ آپ نے کما لی، وہ آپ کی قابل استعمال اور قابل وصول رقم ہے جس کو اکاونٹنگ میں ریسیو ایبل (receivable) کہا جاتا ہے۔
معزز عدالت نے یہی نکتہ بیان کیا اور کہا چونکہ لفظ اثاثہ کا کوئی سب سے الگ مطلب نہیں جو کہ پاکستانی قانون نے اختیار کیا ہو، تو اس لیے اس کا بین الاقوامی اور عام فہم مطلب ہی لیا جائے گا۔ جو کہ بیان کیا جا چکا ہے۔
اس طرح اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ جو رقم آپ نے کما لی، چاہے وہ وصول کی یا نہیں، تو اثاثہ کہلائے گی۔
یاد رہے یہ وہ تنخواہ نہیں جو نواز شریف نے ابھی وصول کرنا تھی، بلکہ وہ تنخواہ ہے جو وہ چھ سال سے کما رہے ہیں۔ اور جولائی 2006 سے جنوری 2013 تک انہوں نے کسی بھی جگہ اس کو ظاہر نہیں کیا اور چھپائے رکھا۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں معزز جج صاحبان کا کہنا ہے کہ
(باوجود پانامہ لیکس کے ہم نے آپ کی تردید کے باعث خود سے کوئی ایکشن نہیں لیا جب تک کہ عوام نے ہم سے رجوع نہ کیا) ’’لیکن ہم اس بات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے تھے کہ نواز شریف کے پوشیدہ اثاثے کا انکشاف ہوا، جوکہ تفتیش کے دوران سامنے آیا، اور انہوں نے اس کا ذکر کاغذات نامزدگی میں بھی نہ کیا، نہ ہی ہم صرف اس وجہ پر کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں عدل کا دامن چھوڑ سکتے تھے۔  ہمیں ان سے اعلٰی اقدار کی توقع تھی کیوں کہ وہ ملک کے سب سے بڑے عوامی عہدے پر فائز تھے۔
لیکن ہمیں مایوسی ہوئی کہ نوازشریف نے اٹھنے والے سوالات کے جوابات میں خیانت کی وہ کبھی مکمل سچ کے ساتھ سامنے نہیں آئے انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی، اور یہ بھول گئے کہ
آپ، تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں، کچھ کو ہمیشہ کے لیے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
مبہم، ذومعنی اور موضوع سے ہٹ کر جوابات ہر جگہ کام نہیں آتے (دوسرے لفظوں میں عدالت میں لفظی کھیل نہیں چلتا)۔
اگر مقدر نے انہیں ملک کا وزیر اعظم بنا ہی دیا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اخلاقی قدروں کا مظاہرہ بھی کرتے۔ اگر کسی لیڈر کی خفیہ دولت سامنے آئے تو چاہیےہوتا ہے کہ استعفٰی دے دیں نہ کہ اقتدار سے چمٹے رہیں۔‘‘

اس کے بعد بھی اگر نواز شریف یہ سوال داغتے رہیں کہ مجھے کیوں نکالا تو ان کی عظیم ڈھٹائی کا ثبوت ہو گی جو اس سے پہلے شاید ہی کسی نے دکھائی ہو۔


Share
Tweet
Pin
Share
No تبصرے

سموگ، وجوہات، تدارک اور احتیاطی تدابیر

سموگ کیا ہے؟

سموگ ایک قسم کی ہوائی آلودگی (air pollution) ہے، یعنی یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی وجہ سے ہوا انتہائی گندی ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی صحیح طرح سے گزر نہیں پاتی۔

Lahore_Smog,_05_November_2016

سموگ در اصل دو انگریزی ناموں سموک یعنی دھواں اور فوگ یعنی دھند کا مرکب ہے۔ ۱۹۰۵ میں ایک برطانوی سائنسدان، ڈاکٹر ہنری انٹونی نے اپنے ایک مقالہ ’’دھواں اور دھند‘‘ میں اس لفظ کو پہلی بار استعمال کیا۔
images
سموگ کی شروعات لندن میں کوئلہ جلانے کی وجہ سے ہونے والی انتہائی آلودگی سے ہوئی۔ ٹھیک اسی دوران مذکورہ ڈاکٹر نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ یاد رہے کہ کوئلہ زمانہ وسطہ سے زیر استعمال رہا ہے۔
سموگ کے پیدا ہونے کی وجوہات میں سر فہرست گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا دھواں اور کوئلے کا دھواں شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں اینٹوں سے لے کر چینی تک بنانے میں دھواں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کا دھواں عام سی بات سمجھا جاتا ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جاتی حالانکہ یہ ایک زہر قاتل ہے۔
اس کے علاوہ گندم اور چاول کی کٹائی کے بعد کھلیان کو آگ لگانا بھی بڑی وجہ پائی گئی ہے۔
delhi_smog_1478513562325

کیا سموگ قدرتی مظہر ہے؟

سموگ قدرتی مظہر نہیں، بلکہ انسانی غلطیوں کا مظہر ہے۔ یہ گاڑیوں، فیکٹریوں اور پاور ہاوسز کے دھواں سے پیدا ہوتا ہے۔

سموگ کے بننے کی وجوہات کیا ہیں؟

گاڑیوں کے دھویں اور دوسریی قسم کے دھویں کے علاوہ کھیت میں آگ لگانے کی وجہ سے دھواںن پیدا ہوتا ہے جس میں نائٹروجن اور وولٹائل کاربن کمپاونڈ (رجعت گیر کاربن مرکبات) موجود ہوتے ہیں۔  ہوا کے ساکن ہونے پر یہ دھواں بجائے بلندی کی طرف جانے کے، کم بلندی پر معلق رہتا ہے اور مزید برآں روشنی پڑنے سے اس میں مزید کیمیائی تعامل ہونے کی وجہ سے دھند میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور اسی دوران گاڑیوں کے چلنے سے مزید پیدا ہونے والا دھواں بھی اس میں شامل ہوتا رہتا ہے س سے دھند اور گرد و غبار اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دوشنی بھی مدھم ہو جاتی ہے۔ سانس لینا مشکل ہو جا تاہے۔
سموگ کے اثرات کیا ہیں؟
سموگ کی وجہ سے روشنی مدھم ہوجاتی ہے، دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حادثات واقعہ ہوتے ہیں اور فضائی سفر تو ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت پر براہ راست اور بلاواسطہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سموگ کی وجہ سے آنکھوں اور پھیپھڑوں کے امراض پیدا ہوتے اور پھییلتے ہیں۔ دمہ کے مریض تو مشکل در مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ جبکہ دل اور فشار خون (بلڈ پریشر) کے مریض بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
سموگ کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ مختلف شہروں مثلاً لاس اینجلس، دہلی اور سالٹ لیک وغیرہ میں روز مرہ کی ترتیبات خراب ہو کر رہ جاتی ہیں۔
سموگ کا ایک بڑا نقصان تمام پرندوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کی تمام سرگرمیاں مسدود ہر کر رہ جاتی ہیں۔ خصوصاً ان کی افزائش کے موسم میں سموگ کی وجہ سے ان کو خوراک تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سموگ کی وجہ سے فصلیں بھی خراب ہوتی ہیں۔ خصوصاً وہ فصلیں جن کے لیے روشنی اور صاف ہوا لازم ہوتی ہے۔
سموگ کا ایک خطرناک اثر تیزابی بارش کا ہونا ہے جو کہ ہر انسان و غیر انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ سموگ کی وجہ سے جنگلات پر اضافی بوجھ پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ بالآخر جنگلات کو ہی فضائی آلودگی سے نمٹنا ہوتا ہے۔
WireAP_2afee6cf12a24357b598b492a748fea6_12x5_992

کیا سموگ جان لیوا ہے؟

اونٹاریو میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق سال دو ہزار سولہ (2016) میں نو ہزار پانچ سو (9500) افراد سموگ کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔   [http://wheels.ca/reviews/article/256058]
اس کے علاوہ امریکی کینسر سوسائٹی نے بیس سالہ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سموگ کی وجہ سے قبل از وقت موت کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ [http://www.npr.org/templates/transcript/transcript.php?storyId=101694787]
سموگ کے اثرات مختلف لوگوں پر مختلف انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔ دمہ، ٹی بی اور دیگر پھیپھڑوں اور سانس کے متعلقہ بیماریوں کے حامل افراد کے لیے سموگ نہایت خطرناک واقع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی سے متاثرہ افراد کو نزلہ، زکام اور گلے کی شکایت ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ آنکھوں میں جلن ہونا اور نظر میں نقص پیدا ہونا بھی اس کے چیدہ چیدہ اثرات میں سے ہے۔

سموگ، بیماریوں کا سبب!

نہ صرف یہ کہ سموگ ایسے افراد کے لیے خطرہ ہے جو پہےل سے دمہ وغیرہ جیسے امراض میں مبتلا ہیں، بلکہ سموگ کی وجہ سے بہت سی بیماریاں نہ صرف پیدا ہوتی ہیں بلکہ منتقل بھی ہوتی ہیں۔
مختلف بیماریاں جو سموگ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں:
• یتیمیمہ (Emphysema)
• برونچی ٹائس (Bronchitis)
• دمہ (Asthma)
• سانس کی نالی میں سوجن
• پھیپھڑوں کی کم کارکردگی
• سانس کا اکھڑ جانا
• سانس لینے میں تکلیف
• سانس کی نالی میں درد
• سانس لینے سے سیٹی جیسی آواز پیدا ہونا
• کھانسی
• آنکھوں میں جلن
• ناک میں جلن
• گلے کی خراش
• قوت مدافعت میں کمی
• بخار اور بخار میں اضافہ
• بخار کے زیادہ خطرات
• دیگر چھوت کی بیماریاں

بچوں پر اثرات:

بچے خصوصاً کھیل کود کی عمر کے بچے سموگ سے حد درجہ متاثر ہوتے ہیں۔ کیوں کہ سموگ میں کھیلنے سے ان کی آکسیجن ڈیمانڈ بڑھتی ہے اور اس طرح ان میں دمہ اور دیگر بیماریوں کے پیدا ہونے کے خطرات واقع ہوتے ہیں۔
سموگ اور قبل از پیدائش امراض
آٹ سو چھ (806) خواتین جن کے بچوں کو پیدائشی امراض لاحق ہوئے، پر تحقیق کے نتیجہ میں سموگ کے ان بیماریوں کی وجہ پایا گیا۔ [https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3571254]
سموگ اور بچوں کا وقت پیدائش کم وزن
ایک تحقیق کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی کہ سموگ میں نہایت کم اضافہ سے بھی بچوں میں کم وزنی کی کیفیت اٹھارہ فیصد (18%) بڑھ جاتی ہے [https://doi.org/10.1016%2FS2213-2600%2813%2970192-9]
دسمبر دوہزر پانچ (December, 2005) میں ایران کے شہر تہران میں ایک ہزار چھ سو (1600) افراد کو سموگ کی وجہ سے اسپتال داخل ہونا پڑا۔
۱۹۵۲ (1952) میں لندن میں عظیم سموگ کی وجہ سے 4000 افراد کی جان گئی، جبکہ سموگ ختم ہونے کے بعد اس کی وجہ سے لاحق بیماریوں نے مزید 8000 افراد کو لقمہ اجل بنایا۔  [https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC1241789]

سموگ کا سراغ کیسے لگایا جائے؟ کیسے معلوم ہو کہ فضا سموگ آلود ہے؟

عام طور پرسموگ کو تبھی سموگ سمجھا جاتا ہے جب وہ دیکھنے میں دقت پیدا کرے یعنی جب دھواں نما مواد ہوا میں بھر جائے۔
جبکہ سموگ سے مراد کیمیکلز اور گرد و غبار کا آمیزہ ہے۔
مختلف ممالک ائیر کوالٹی انڈیکس (Air Quality Index or AQI) کی اشاعت کرتے ہیں جس سے کسی شہر کی فضارئی آلودگی کو پرکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے ذرائع سے باخبر رہنا ضروری ہے۔
http://aqicn.org/country/pakistan/

سموگ کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

سموگ کے خاتمہ کے لیے منظم، واضع اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ تیزی سے کم ہوتے جنگل اس کی ایک بڑی وجہ ہیں اگر اس کا الٹ عمل اختیار کیا جائے تو سموگ کا خاتمہ ممکن ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے اقدامات کو فضول خرچی، عیاشی اور چند پڑھے لکھوں کا پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال خیبر پختونخواہ کا بلین ٹری سونامی (Billion Tree Tsunami) پروگرام ہے۔ اس مہم کے دوران حکومت خیبر پختون خواہ نے ایک عرب درختوں کی شجرکاری کی۔ جس سے آئندہ وقت میں خیبر پختون خواہ کے ماحول میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔
مگر عین اسی وقت دوسرے صوبوں مثلاً پنجاب میں اس عمل کی سیاسی بنیادوں پر تضحیک اور تنقیص کی جا رہی تھی۔
درخت لگانا سنت رسول اللہ ﷺ بھی ہے اور اسلام کے اہم احکامات میں سے ایک بھی۔

اس کے علاوہ ہمیں اپنی عادات کو بھی بدلنا ہو گا۔ کیا آپ کا موٹر سائکل، سکوٹر یا آپ کی گاڑی زیادہ دھواں پیدا کرتی ہے؟
کیا اس سے زیادہ آواز پیدا ہوتی ہے؟ کیا آپ کوڑا کرکٹ جلا دیتے ہیں؟ تو ایسے میں اس سموگ کی وجہ آپ بھی ہیں۔ ان حادثات میں بہت کم سہی حصہ آپ کا بھی ہے۔
کیا آپ اپنی میونسپلٹی اور حکومت پر  جنگلات لگانے کے لیے زور نہیں دیتے؟ تو کیوں؟ کیا اس اندھاپے دھویں کے بعد بھی نہیں؟

سموگ کو ختم کیا جا سکتا ہے اگر

درختوں کی کٹائی ختم کی جائے
شجر کاری کی جائے مزید یہ کہ بعد از شجر کاری ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے
گاڑیوں کا دھواں کم سے کم کیا جائے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔
فضول آگ لگانے سے اجتناب کیا جائے۔
بعد از کٹائی کھیت کو آگ لگانے پر سزا یا جرمانہ عائد کیا جائے۔
ماحول کا خیال رکھا جائے۔
بہت بہتر ہو اگر ہر شخص ایک درخت لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرے۔ اس سے صحت بھی بہتر ہو گی اور ماحول بھی۔

سموگ کے دوران احتیاطی تدابیر

• زیادہ گنجان علاقوں میں جانے سے گریز کیجئے۔
• زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں زیادہ وقت نہ گزاریے
• فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیے
• عرق گلاب یا اسی طرح کے کسی آئی واش کا استعمال کیجئے۔
• ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کا استعمال کیجئے
• زیادہ ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کیجئے۔
• زیادہ زیادہ سے پانی پیجئے
• اگر آپ کو گلے کی خراش اور سانس لینے میں دقت کا سامنے ہو تو خاندان یا ہمسائگی کے ایسے افراد کی خبر لیجئے جو سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں کیوں کہ ان کو زیادہ تکلیف ہو گی۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے۔
• اگر آپ سانس سے متعلقہ دوائیں لے رہے ہیں تو ان کو لازماً اپنے قریب رکھیے۔
• تمباکو نوشی ترک کیجئے
• لکڑی یا کاغذات وغیرہ کو جلانے سے اجتناب کیجئے۔
• ڈوسی میٹر (dosimeter) کی مدد سے ریڈان کی آلودگی پر نظر رکھیے۔


Share
Tweet
Pin
Share
No تبصرے
Newer Posts
Older Posts

About me

About Me

Aenean sollicitudin, lorem quis bibendum auctor, nisi elit conseat ipsum, nec sagittis sem nibh id elit. Duis sed odio sit amei.

Follow Us

  • facebook
  • twitter
  • instagram
  • Google+
  • pinterest
  • youtube

Categories

recent posts

Sponsor

Facebook

Blog Archive

  • نومبر 2017 (4)
  • اکتوبر 2017 (1)
  • اگست 2017 (4)
  • جولائی 2017 (1)

Created with by ThemeXpose