فیض آباد، اسلام آباد اور کراچی میں مکمل ناکہ بندی، ایک جانب ریاستی مشینری تو دوسری جانب قانون ختم نبوت کے حامی۔
سادہ الفاظ میں یہ ایک بچگانہ حرکت کا نتیجہ ہے، جس کے مطابق ایک ایسا قانون جو ہزاروں جانوں کی قربانی کے بعد وجود میں آیا، اور جو ایک ایسے بیانیہ پر مشتمل ہے جو کہ سوا ارب مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، ایسے اہم قانون کو ختم کرنے کی سازش یا حرکت کی وجہ سے علمائے پاکستان کی جانب سے احتجاج اور اس پر ریاستی مشینری کے طاقت کے استعمال کی وجہ سے تشدد کی راہ ہموار ہوئی۔
مگر کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے؟
کیا وجہ ہے کہ یہ مسلہ تبھی درپیش ہوا، یہ قانون تبھی بدلا گیا جب نواز شریف نا اہل ہوے جب باقر نجفی رپورٹ منظر عام پر آنا تھی اور چھوٹے میاں صاحب جناب شہباز شریف کی کرپشن بے نقاب ہونے کو تھی؟
ایسے حالات میں کہ جب ملک کے بچے بچے کی زبان پر پانامہ کا ذکر تھا اور گلی گلی میں چوک چوراہوں پر چائے کے کھوکھوں سے ریستورانوں تک، ہسپتالوں کے ویٹنگ رومز میں اور حجام کی دوکانوں پر گلی کی نکر پر موجود جوتے پالش کرنے والے کے بنچ سے یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا تک ہر جگہ آئی سی آئی جے کے کارنامہ یعنی پانامہ لیکس اور اس کی زد میں آنے والے کرپٹ، بد عنوان اور بدکار (یعنی برے کام کرنے والے) لوگوں کا ذکر ہو رہا تھا؛ اچانک شہباز شریف کو یہ سوجھی کہ کسی طرح بڑے بھائی کو مزید گندا کیا جائے تاکہ اگلی بار وزیراعظم وہی بنیں۔
چنانچہ وزیر قانون زاہد حامد خان، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، چوہدری نثار علی خان اور دیگر سیاسی گدھوں (اگ کے نیچے زیر ہے) کے ساتھ مل کر قانون کو بدلا اس سے مقاصد درج ذیل ہیں
- نواز شریف کو سیاست سے نکالنا۔
- فوج اور عوام کو آمنے سامنے لانا۔
- باقر نجفی رپورٹ کو رکوانا
- کوشش کرنا کہ مارشل لاء کا نفاذ ہو تاکہ آمر اور ڈکٹیٹر کا رونا رویا جا سکے اور سیاسی شہید بنا جا سکے۔
- کرپشن چھپائی جا سکے۔
- وقت آنے پر ملک سے باہر بھاگا جا سکے کہ جان کو خطرہ ہے۔
- ملائیت کو جیب میں ڈالا جا سکے
لہٰذہ یہ بات بھی بعید نہیں کہ مولوی خادم رِضوی صاحب اور ان کے مخالف ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو شہباز شریف کی تھپکی ہی حاصل ہو۔
ملاحظہ کیجئے کہ بھکی شریف جو کہ ضلع منڈی بہاؤالدین کا ایک قصبہ ہے، سے لاہور تک کسی نے ان کو نہ روکا۔
اور اسی طرح پنجاب عبور کر کے اسلام آباد آنے والے رضوی صاحب کو بھی کسی نے نہ روکا۔
فیض آباد دھرنا، کون صحیح کون غلط؟
یہ بات اتنی سادہ نہیں۔
ختم نبوت قانون کوئی ٹریفک قوانین کا حصہ نہیں کہ جب چاہو بدل دو۔ یہ نصِ قرآنی سے ہے اور اصول دین سے یعنی اس کو دنیا کی کوئی دستور ساز اسمبلی نہیں بدل سکتی۔ اس کو آئین سے نکال بھی دیا جائے تو مسلمان وہی ہو گا جو توحید، رسالت اور ختم نبوت و رسالت پر کامل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو گا۔
ایسے میں چند غنڈوں اور گماشتوں کے بل پر اس قانون میں تبدیلی کی کوشش انہائی گھٹیا فعل اور غیر ذمہ دارانہ فعل تھا۔
یہاں تک تو حکومت کا ہی قصور نظر آتا ہے۔
اب ذرا مولوی خادم رضوی جن کا پورا نام خادم حسین ہے، کی بات کرتے ہیں۔
مولوی صاحب کی تقاریر خواتین اور بچوں کے لیے تو نہیں ہیں۔ معلوم پڑتا ہے کہ ہالی ووڈ کی اٹھارہ سال سے زائد افراد کی فلم ہے۔ جس میں گالیوں کی بہتات ہے۔
مولوی صاحب کا نفسیاتی تجزیہ یہ بتلاتا ہے کہ ان کے نزدیک دنیا انہیں کے گرد گھومتی ہے لہذہ ما سوا مولوی صاحب سب ہیچ ہے۔
موصوف اپنے ہی ساتھی مولوی اشرف آصف جلالی کے بھی خلاف ہیں اور چھ سو سے زائد صفحات کا فتوٰی دہشت گردی کے خلاف دینے والے عالم ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی عبدالستار ایدھی کو بھی ننگ انسانیت قرار دیتے ہیں۔
مگر پھر بھی کیوں عوام کی کثیر کی تعداد ان کے ساتھ ہے؟
اس کی دو وجوہات ہیں۔
اول تو یہ کہ ان کا موقف فی الوقت درست ہے۔
دوم یہ کہ وہ عوام کی روز مرہ کی زبان میں ہی گفتگو کرتے ہیں۔ انہی کی طرح بات بات میں گالی اور نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذہ عوام ان کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں کوئی غیر نہیں۔
اکثر ان کے مخالفین ان کو ملا گالم گلوچ بھی کہا کرتے ہیں۔
اور تو اور ان کا علامہ محمد اقبال کے بارے بھی عجیب انداز بیان ہے۔
ادب شاید انہوں نے تین حروف میں پڑھا۔۔۔ الف، دال اور بے
مگر یہ بات واضع رہے کہ فی الوقت مولوی صاحب کا موقف درست ہے وہ لوگ جنہوں نے ایسی جسارت کی لازماً مستعفی ہونے چاہییں۔
مگر یاد رہے۔۔۔ مولوی خادم رضوی نہ اسلام ہے نہ اسلام کا نمائندہ۔
سیاست اور طاقت کا پٹھو اس سے زائد کچھ بھی نہیں۔








