ایک دوسرے سے سیکھنے کا وقت ہے
اگر ہم سترہویں صدی عیسوی پر غور کریں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ سخت مقابلہ جاری رہا۔
نیوٹن کے بعد لیپنز نے جرمنی کو ریاضیات میں برتری دی، تو سڑکوں میں پیغے اور ٹیلفورڈ نے فرانس و برطانیہ کو دوڑ میں رکھا۔ ایک نے مائکروسکوپ ایجاد کی تو دوسرے نے ویکسین بھی بنا لی۔
بینز نے کار بنائی تو رائٹ برادران نے جہاز اڑا لیا۔
اسی دوران، ان کی آپس میں بھی شدید جنگیں جاری رہیں۔ برطانیہ و فرانس چوہے بلی کی طرح لڑتے رہے۔
نیوٹن کے بعد لیپنز نے جرمنی کو ریاضیات میں برتری دی، تو سڑکوں میں پیغے اور ٹیلفورڈ نے فرانس و برطانیہ کو دوڑ میں رکھا۔ ایک نے مائکروسکوپ ایجاد کی تو دوسرے نے ویکسین بھی بنا لی۔
بینز نے کار بنائی تو رائٹ برادران نے جہاز اڑا لیا۔
اسی دوران، ان کی آپس میں بھی شدید جنگیں جاری رہیں۔ برطانیہ و فرانس چوہے بلی کی طرح لڑتے رہے۔
اہم بات یہ ہے کہ دونوں آپس میں لڑے مگر ایک دوسرے کی ایجادات کو کافر قرار نہیں دیا۔
ٹھیک اسی وقت ہم اکبر کو کافر کہہ کر شیر شاہ سوری جیسے قتال و غدار کو ہیرو بنا بیٹھے۔ شائد فرید خان (سوری) ہندوستان کا پہلا نواز شریف تھا جس کو بس جی ٹی روڈ بنانا تھی۔
لیکن ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہے بلکہ ہم نے غالب، میر، داغ اور اقبال جیسی ہستیاں پیدا کیں۔
اگر اسی دوران صوفیاء کی بات نہ کی جائے تو بات بے وزن رہے گی۔
اسی دوران جب یورپ مذہب سے بےزار ہو رہا تھا، ہمیں سیدنا وارث علی ؑ نائب علی اور میاں محمد بخشؓ جیسی نادر ہستیوں سے نوازا گیا۔
اہل مغرب جوکہ کسی تصویر والے کمرے میں کپڑے نہ بدلتے تھے، برہنگی کو ماڈرنٹی جاننے لگے۔
ہم نے دیکھا کہ نن سے ماڈل تک کا یہ سفر بس چند ہی دہائیوں میں طے ہوا۔
پرانے بوڑھے جو فلاسفر بنا کرتے تھے، اولڈ ہوم میں کھانے کی لائن میں لگنے لگے۔
ہمیں لکھنئو کے بانکوں کی جگہ کاؤ بوائے اور پاپ ڈانسر پسند آگئے۔
چرچ اور سٹیٹ کی علیحدگی کے بعد تو گویا مذہب جیسے پزا یا برگر ہو گیا۔
یعنی صاحب کا دل چاہا تو خدا کو لفٹ کرا دی ورنہ تو کون میں کون۔۔۔۔
ہمیں لکھنئو کے بانکوں کی جگہ کاؤ بوائے اور پاپ ڈانسر پسند آگئے۔
چرچ اور سٹیٹ کی علیحدگی کے بعد تو گویا مذہب جیسے پزا یا برگر ہو گیا۔
یعنی صاحب کا دل چاہا تو خدا کو لفٹ کرا دی ورنہ تو کون میں کون۔۔۔۔
مذہب سے نفرت ایسی بڑھی کہ مذہب کو ہولی شٹ یعنی مقدس گندگی کا نام دیا جانے لگا جو کہ فیشن میں پاکستانی بھی بولتے نظر آتے ہیں۔
غرض۔۔۔۔ انہوں نے سائنسی ترقی حاصل کی، ہم نے محبت کے پاٹھ پڑھے۔
اب وہ محبت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اور ہم ’’ماڈرن‘‘ ہونا چاہ رہے ہیں۔
اب وہ محبت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اور ہم ’’ماڈرن‘‘ ہونا چاہ رہے ہیں۔
کیا ہم ایک دوسرے سیکھ نہیں سکتے؟ بجائے باریاں بدلنے کے، خود کو نہیں بدل سکتے؟
قسمے بڑی ہمت ہے آپ کی جے تسی سارا پڑھ کہ یہاں تک آئے۔
میں شاعر نہیں اور شاعری کی ش بھی نہیں جانتا کیڑھے پاسے ہوتی ہے اس لیے اسی قسم کی باتیں کر سکتا ہوں۔۔۔۔ معذرت۔
اور برداشت کرنے کے لیے شکریہ۔
اور برداشت کرنے کے لیے شکریہ۔


0 تبصرے