سموگ، وجوہات، تدارک اور احتیاطی تدابیر
سموگ، وجوہات، تدارک اور احتیاطی تدابیر
سموگ کیا ہے؟
سموگ ایک قسم کی ہوائی آلودگی (air pollution) ہے، یعنی یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی وجہ سے ہوا انتہائی گندی ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی صحیح طرح سے گزر نہیں پاتی۔سموگ در اصل دو انگریزی ناموں سموک یعنی دھواں اور فوگ یعنی دھند کا مرکب ہے۔ ۱۹۰۵ میں ایک برطانوی سائنسدان، ڈاکٹر ہنری انٹونی نے اپنے ایک مقالہ ’’دھواں اور دھند‘‘ میں اس لفظ کو پہلی بار استعمال کیا۔

سموگ کی شروعات لندن میں کوئلہ جلانے کی وجہ سے ہونے والی انتہائی آلودگی سے ہوئی۔ ٹھیک اسی دوران مذکورہ ڈاکٹر نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ یاد رہے کہ کوئلہ زمانہ وسطہ سے زیر استعمال رہا ہے۔
سموگ کے پیدا ہونے کی وجوہات میں سر فہرست گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا دھواں اور کوئلے کا دھواں شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں اینٹوں سے لے کر چینی تک بنانے میں دھواں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کا دھواں عام سی بات سمجھا جاتا ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جاتی حالانکہ یہ ایک زہر قاتل ہے۔
اس کے علاوہ گندم اور چاول کی کٹائی کے بعد کھلیان کو آگ لگانا بھی بڑی وجہ پائی گئی ہے۔
کیا سموگ قدرتی مظہر ہے؟
سموگ قدرتی مظہر نہیں، بلکہ انسانی غلطیوں کا مظہر ہے۔ یہ گاڑیوں، فیکٹریوں اور پاور ہاوسز کے دھواں سے پیدا ہوتا ہے۔سموگ کے بننے کی وجوہات کیا ہیں؟
گاڑیوں کے دھویں اور دوسریی قسم کے دھویں کے علاوہ کھیت میں آگ لگانے کی وجہ سے دھواںن پیدا ہوتا ہے جس میں نائٹروجن اور وولٹائل کاربن کمپاونڈ (رجعت گیر کاربن مرکبات) موجود ہوتے ہیں۔ ہوا کے ساکن ہونے پر یہ دھواں بجائے بلندی کی طرف جانے کے، کم بلندی پر معلق رہتا ہے اور مزید برآں روشنی پڑنے سے اس میں مزید کیمیائی تعامل ہونے کی وجہ سے دھند میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور اسی دوران گاڑیوں کے چلنے سے مزید پیدا ہونے والا دھواں بھی اس میں شامل ہوتا رہتا ہے س سے دھند اور گرد و غبار اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دوشنی بھی مدھم ہو جاتی ہے۔ سانس لینا مشکل ہو جا تاہے۔سموگ کے اثرات کیا ہیں؟
سموگ کی وجہ سے روشنی مدھم ہوجاتی ہے، دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حادثات واقعہ ہوتے ہیں اور فضائی سفر تو ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت پر براہ راست اور بلاواسطہ برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سموگ کی وجہ سے آنکھوں اور پھیپھڑوں کے امراض پیدا ہوتے اور پھییلتے ہیں۔ دمہ کے مریض تو مشکل در مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ جبکہ دل اور فشار خون (بلڈ پریشر) کے مریض بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
سموگ کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ مختلف شہروں مثلاً لاس اینجلس، دہلی اور سالٹ لیک وغیرہ میں روز مرہ کی ترتیبات خراب ہو کر رہ جاتی ہیں۔
سموگ کا ایک بڑا نقصان تمام پرندوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کی تمام سرگرمیاں مسدود ہر کر رہ جاتی ہیں۔ خصوصاً ان کی افزائش کے موسم میں سموگ کی وجہ سے ان کو خوراک تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سموگ کی وجہ سے فصلیں بھی خراب ہوتی ہیں۔ خصوصاً وہ فصلیں جن کے لیے روشنی اور صاف ہوا لازم ہوتی ہے۔
سموگ کا ایک خطرناک اثر تیزابی بارش کا ہونا ہے جو کہ ہر انسان و غیر انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ سموگ کی وجہ سے جنگلات پر اضافی بوجھ پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ بالآخر جنگلات کو ہی فضائی آلودگی سے نمٹنا ہوتا ہے۔
کیا سموگ جان لیوا ہے؟
اونٹاریو میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق سال دو ہزار سولہ (2016) میں نو ہزار پانچ سو (9500) افراد سموگ کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔ [http://wheels.ca/reviews/article/256058]اس کے علاوہ امریکی کینسر سوسائٹی نے بیس سالہ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سموگ کی وجہ سے قبل از وقت موت کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ [http://www.npr.org/templates/transcript/transcript.php?storyId=101694787]
سموگ کے اثرات مختلف لوگوں پر مختلف انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔ دمہ، ٹی بی اور دیگر پھیپھڑوں اور سانس کے متعلقہ بیماریوں کے حامل افراد کے لیے سموگ نہایت خطرناک واقع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ الرجی سے متاثرہ افراد کو نزلہ، زکام اور گلے کی شکایت ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ آنکھوں میں جلن ہونا اور نظر میں نقص پیدا ہونا بھی اس کے چیدہ چیدہ اثرات میں سے ہے۔
سموگ، بیماریوں کا سبب!
نہ صرف یہ کہ سموگ ایسے افراد کے لیے خطرہ ہے جو پہےل سے دمہ وغیرہ جیسے امراض میں مبتلا ہیں، بلکہ سموگ کی وجہ سے بہت سی بیماریاں نہ صرف پیدا ہوتی ہیں بلکہ منتقل بھی ہوتی ہیں۔مختلف بیماریاں جو سموگ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں:
• یتیمیمہ (Emphysema)
• برونچی ٹائس (Bronchitis)
• دمہ (Asthma)
• سانس کی نالی میں سوجن
• پھیپھڑوں کی کم کارکردگی
• سانس کا اکھڑ جانا
• سانس لینے میں تکلیف
• سانس کی نالی میں درد
• سانس لینے سے سیٹی جیسی آواز پیدا ہونا
• کھانسی
• آنکھوں میں جلن
• ناک میں جلن
• گلے کی خراش
• قوت مدافعت میں کمی
• بخار اور بخار میں اضافہ
• بخار کے زیادہ خطرات
• دیگر چھوت کی بیماریاں
بچوں پر اثرات:
بچے خصوصاً کھیل کود کی عمر کے بچے سموگ سے حد درجہ متاثر ہوتے ہیں۔ کیوں کہ سموگ میں کھیلنے سے ان کی آکسیجن ڈیمانڈ بڑھتی ہے اور اس طرح ان میں دمہ اور دیگر بیماریوں کے پیدا ہونے کے خطرات واقع ہوتے ہیں۔سموگ اور قبل از پیدائش امراض
آٹ سو چھ (806) خواتین جن کے بچوں کو پیدائشی امراض لاحق ہوئے، پر تحقیق کے نتیجہ میں سموگ کے ان بیماریوں کی وجہ پایا گیا۔ [https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3571254]
سموگ اور بچوں کا وقت پیدائش کم وزن
ایک تحقیق کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی کہ سموگ میں نہایت کم اضافہ سے بھی بچوں میں کم وزنی کی کیفیت اٹھارہ فیصد (18%) بڑھ جاتی ہے [https://doi.org/10.1016%2FS2213-2600%2813%2970192-9]
دسمبر دوہزر پانچ (December, 2005) میں ایران کے شہر تہران میں ایک ہزار چھ سو (1600) افراد کو سموگ کی وجہ سے اسپتال داخل ہونا پڑا۔
۱۹۵۲ (1952) میں لندن میں عظیم سموگ کی وجہ سے 4000 افراد کی جان گئی، جبکہ سموگ ختم ہونے کے بعد اس کی وجہ سے لاحق بیماریوں نے مزید 8000 افراد کو لقمہ اجل بنایا۔ [https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC1241789]
سموگ کا سراغ کیسے لگایا جائے؟ کیسے معلوم ہو کہ فضا سموگ آلود ہے؟
عام طور پرسموگ کو تبھی سموگ سمجھا جاتا ہے جب وہ دیکھنے میں دقت پیدا کرے یعنی جب دھواں نما مواد ہوا میں بھر جائے۔جبکہ سموگ سے مراد کیمیکلز اور گرد و غبار کا آمیزہ ہے۔
مختلف ممالک ائیر کوالٹی انڈیکس (Air Quality Index or AQI) کی اشاعت کرتے ہیں جس سے کسی شہر کی فضارئی آلودگی کو پرکھا جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے ذرائع سے باخبر رہنا ضروری ہے۔
http://aqicn.org/country/pakistan/
سموگ کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟
سموگ کے خاتمہ کے لیے منظم، واضع اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ تیزی سے کم ہوتے جنگل اس کی ایک بڑی وجہ ہیں اگر اس کا الٹ عمل اختیار کیا جائے تو سموگ کا خاتمہ ممکن ہے۔اس وقت پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے اقدامات کو فضول خرچی، عیاشی اور چند پڑھے لکھوں کا پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال خیبر پختونخواہ کا بلین ٹری سونامی (Billion Tree Tsunami) پروگرام ہے۔ اس مہم کے دوران حکومت خیبر پختون خواہ نے ایک عرب درختوں کی شجرکاری کی۔ جس سے آئندہ وقت میں خیبر پختون خواہ کے ماحول میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔
مگر عین اسی وقت دوسرے صوبوں مثلاً پنجاب میں اس عمل کی سیاسی بنیادوں پر تضحیک اور تنقیص کی جا رہی تھی۔
درخت لگانا سنت رسول اللہ ﷺ بھی ہے اور اسلام کے اہم احکامات میں سے ایک بھی۔
اس کے علاوہ ہمیں اپنی عادات کو بھی بدلنا ہو گا۔ کیا آپ کا موٹر سائکل، سکوٹر یا آپ کی گاڑی زیادہ دھواں پیدا کرتی ہے؟
کیا اس سے زیادہ آواز پیدا ہوتی ہے؟ کیا آپ کوڑا کرکٹ جلا دیتے ہیں؟ تو ایسے میں اس سموگ کی وجہ آپ بھی ہیں۔ ان حادثات میں بہت کم سہی حصہ آپ کا بھی ہے۔
کیا آپ اپنی میونسپلٹی اور حکومت پر جنگلات لگانے کے لیے زور نہیں دیتے؟ تو کیوں؟ کیا اس اندھاپے دھویں کے بعد بھی نہیں؟
سموگ کو ختم کیا جا سکتا ہے اگر
درختوں کی کٹائی ختم کی جائےشجر کاری کی جائے مزید یہ کہ بعد از شجر کاری ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے
گاڑیوں کا دھواں کم سے کم کیا جائے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔
فضول آگ لگانے سے اجتناب کیا جائے۔
بعد از کٹائی کھیت کو آگ لگانے پر سزا یا جرمانہ عائد کیا جائے۔
ماحول کا خیال رکھا جائے۔
بہت بہتر ہو اگر ہر شخص ایک درخت لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرے۔ اس سے صحت بھی بہتر ہو گی اور ماحول بھی۔
سموگ کے دوران احتیاطی تدابیر
• زیادہ گنجان علاقوں میں جانے سے گریز کیجئے۔• زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں زیادہ وقت نہ گزاریے
• فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیے
• عرق گلاب یا اسی طرح کے کسی آئی واش کا استعمال کیجئے۔
• ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کا استعمال کیجئے
• زیادہ ٹھنڈے مشروبات سے پرہیز کیجئے۔
• زیادہ زیادہ سے پانی پیجئے
• اگر آپ کو گلے کی خراش اور سانس لینے میں دقت کا سامنے ہو تو خاندان یا ہمسائگی کے ایسے افراد کی خبر لیجئے جو سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں کیوں کہ ان کو زیادہ تکلیف ہو گی۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹر سے رابطہ کیجئے۔
• اگر آپ سانس سے متعلقہ دوائیں لے رہے ہیں تو ان کو لازماً اپنے قریب رکھیے۔
• تمباکو نوشی ترک کیجئے
• لکڑی یا کاغذات وغیرہ کو جلانے سے اجتناب کیجئے۔
• ڈوسی میٹر (dosimeter) کی مدد سے ریڈان کی آلودگی پر نظر رکھیے۔




0 تبصرے