کیا متحدہ مجلس عمل، اسلامی طرز عمل کی نمائندہ ہے؟ یا منافقانہ ملائیت کا نام؟
کیا متحدہ مجلس عمل، اسلامی طرز عمل کی نمائندہ ہے؟ یا منافقانہ ملائیت کا نام؟
متحدہ مجلس عمل کی مختصر تاریخ
1993ء کی بات ہے، تمام جماعتیں جو اسلام کا نام لے کر سامنے آئیں،’’Islamic Front‘‘ کے نام سے متحد ہوئیں اور جلد ہی ’’کرسی‘‘ کی دوڑ نے انہیں عیاں کر دیا۔ جب خواتین کی حکومت کو حرام قرار دینے والے یہ نام نہاد ملا پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر بینظیر بھٹو کی حمایت میں نکل پڑے اس کام میں ہمیشہ کی طرح مولوی فضل الرحمن آگے آگے رہے۔
اس کے بعد ملائیت کو اکٹھا ہونے کا موقع نہ ملا۔ کیوں کہ ملائیت کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک شوشہ یا ایک حادثہ چاہیے ہوتا ہے جس کی وہ ہمیشہ گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں۔
یہ دعا یا بدعا کہیے، قبول ہوئی جب 2001ء میں امریکہ پر حملہ ہوا اور جواباً امریکہ نے بھی آؤ دیکھا نا تاؤ اور مسلم ممالک پر پل پڑا۔ اس دوران بھارت، اسرائیل اور روس کی مکمل کوشش تھی کہ امریکہ کو پاکستان سے لڑا دیا جائے۔ اور پھر ایک جانب سے امریکہ و روس تو دوسری جانب سے بھارت حملہ کر کے اپنے اپنے سینے میں ٹھنڈ ڈال لیتے۔
اس وقت پاکستان میں ضیاء الحق کے سیاسی انڈے سے نکلنے والے نواز شریف ہوتے تو شاید یہ سب ہو بھی جاتا مگر حکومت پرویز مشرف کی تھی، جو کہ عیاری میں زرادری سے کم نہ تھا۔ پھر یوں ہوا کہ امریکہ کو اگلے دس سال یہی سمجھ نہ آسکی کہ طالبان سے لڑنا کیسے ہے۔ اور جب اپنی ہی غلطیوں پر پشیمان ہونےکاوقت آیا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مطابق ارد گرد شور مچانا شروع کر دیا۔
اسی عالمی حادثہ یعنی امریکہ اپنے ہزاروں بے گناہوں کے بدلے لاکھوں بے گناہوں کے قتل عام کے شور میں موقع پرست ملاوں کے ٹولے پھر اکٹھے ہوئے اور نئی پارٹی متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی۔
متحدہ کا حکومت میں آنا
پاکستانیوں کی بدقسمتی کہیے کہ ملائیت کے نعروں سے متاثر ہو کر انہیں ملاوں کے ٹولے کو تب کے شمال مغربی سرحدی صوبہ اور آج کے خیبر پختونخواہ کی حکومت دلا دی۔
مگر حکومت کا ملنا گویا بندر کے ہاتھ ماچس کا کام کر گیا۔
متحدہ نے مسلم لیگ ن اور تب کی پیپلز پارٹی اور آج کی زرداری لیگ کو خوب گالیاں بکیں اور ساتھ ہی جہاں جہاں ان پارٹیوں کی حکومت تھی وہاں ان سے الائنس بھی کیا۔

اس کے بعد یہ ملا اتحاد گرگ اشتی ثابت ہوا جب کرسی کے لیے یہ اسلام کے ٹھیکیدار پھر باہم دست و گریباں ہو گئے۔
مثلاً 2002ء کے انتخابات میں جمیعت علمائے اسلام سمیع الحق نے فضل الرحمن گروپ پر تجاوز کا الزام لگایا۔
پھر 2004ء میں مولوی سمیع الحق نے تسلیم کیا کہ متحدہ مجلس عمل اپنے منشور میں ناکام رہی۔
پختون خواہ (سرحد) کا مالیاتی دیوالیہ
متحدہ مجلس عمل ملک میں بے روزگاری ختم کرنے اور غربت کو کم کرنے کا نعرہ لگا کر آئی اور یہ عندیہ دیا کہ وہ یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ ملک کو چلا سکے۔
اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ تب بھی اب کی طرح یہ بات عام شہری کے ذہن میں نقش تھی کہ دین کے نام پر بننے والے مدارس وضو و طلاق کے مسائل تو بتلا سکتے ہیں مگر معیشت و سیاست نہیں چلا سکتے۔ جس کو متحدہ نے بارہا ثابت کیا۔
2003ء میں سالانہ رپورٹ کے مطابق پختون خواہ (سرحد) کا مالیاتی دیوالیہ قریب تھا۔ جبکہ کرپشن کی گندی ترین مثالیں قائم کی جارہی تھیں۔
اس کے علاوہ متحدہ نے بہت سے ریاستی ادارے جو اس کے کنٹرول میں آئے، بیچ ڈالے۔ اور پیسہ ہڑپ کر لیا۔
متحدہ لاقانونیت
جیسا کہ بیان کیا، متحدہ کے ملاوں کو طاقت ملنا ایسا ہی تھا جیسا بندر کے ہاتھ ماچس، پھر یوں ہوا کہ طاقت کے نشے میں متحدہ کے غندہ گرد ملاوں نے معصوم لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر گلیوں میں گھمایا (2005)
پھر اس کے بعد عوام کے پیسے کو نواز شریف اور زرداری کی طرح باپ کا مال سمجھ کر متحدہ نے اپنے اسلامی ملاوں کے لیے ملت ’کفر‘ سے دو فرانسیسی ہیلی کاپٹر بھی خریدے۔ جن کی مالیت 105000000 Rs تھی۔
غرض کہ پاکستانیوں کو دونوں متحدہ سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اتنی ہی شدید ہے جتنی ایک انسان کو سانپ، نواز شریف اور زرداری سے بچنے کی ہوتی ہے۔ وہ متحدہ ہیں، متحدہ مولوی اور متحدہ قومی موومنٹ۔
Please like and share https://goo.gl/CWJka7


0 تبصرے