تجھے یوں نکالا
مجھے کیوں نکالا؟ جواب: تجھے یوں نکالا!

پانامہ کے فیصلہ پر ملک میں دو طرح کا شور اٹھا، ایک تو اس فیصلہ کی خوشی میں حزب اختلاف کی خوشی کا شور تھا تو دوسری طرف، برطرف اور ناہل ہونے والے حکمران میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کاکہرام۔ اس دوران نواز شریف نے ملک بھر میں شور مچایا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یعنی کس بناء پر انہیں برطرف کیا گیا۔۔۔
اللہ اللہ ان کی معصومیت
خیر جب ان کو وجہ بتائی گئی کہ آپ نے پاکستانی وزیر اعظم ہوتے ہوئے دوسرے ملک کا ورک پرمٹ (اقامتی و کاروباری اجازت نامہ، اقامہ ) لیا اور پھر اس پر کام کرتے ہوئے جو کچھ کمایا اس کو اپنے اثاثہ جات میں شمار نہیں کیا، تو نواز شریف نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا۔
پانامہ فیصلے کی نظر ثانی اپیل میں یہ سوال نہیں کیا گیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر کیوں نکالا گیا، بلکہ یہ اعتراض کیا گیا کہ
اعتراض: جو تنخواہ نہ لی جائے وہ اثاثہ میں آتی ہی نہیں تو شمار کیا کرنا؟
جواب: اثاثہ صرف کیش یعنی نقد رقم کو نہیں کہتے، بلکہ ہر وہ چیز جو مال کے زمرہ میں آتی ہو اور اس کو کیش میں بدلا جا سکے اور ملکیت میں ہو، اثاثہ کہلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، پلاٹ، گاڑی وغیرہ اثاثہ ہیں۔ جو تنخواہ آپ نے کما لی، وہ آپ کی قابل استعمال اور قابل وصول رقم ہے جس کو اکاونٹنگ میں ریسیو ایبل (receivable) کہا جاتا ہے۔
معزز عدالت نے یہی نکتہ بیان کیا اور کہا چونکہ لفظ اثاثہ کا کوئی سب سے الگ مطلب نہیں جو کہ پاکستانی قانون نے اختیار کیا ہو، تو اس لیے اس کا بین الاقوامی اور عام فہم مطلب ہی لیا جائے گا۔ جو کہ بیان کیا جا چکا ہے۔
اس طرح اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ جو رقم آپ نے کما لی، چاہے وہ وصول کی یا نہیں، تو اثاثہ کہلائے گی۔
یاد رہے یہ وہ تنخواہ نہیں جو نواز شریف نے ابھی وصول کرنا تھی، بلکہ وہ تنخواہ ہے جو وہ چھ سال سے کما رہے ہیں۔ اور جولائی 2006 سے جنوری 2013 تک انہوں نے کسی بھی جگہ اس کو ظاہر نہیں کیا اور چھپائے رکھا۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں معزز جج صاحبان کا کہنا ہے کہ
اس کے بعد بھی اگر نواز شریف یہ سوال داغتے رہیں کہ مجھے کیوں نکالا تو ان کی عظیم ڈھٹائی کا ثبوت ہو گی جو اس سے پہلے شاید ہی کسی نے دکھائی ہو۔
you can fool all the people for some of the time, some of the people all the time but you cannot fool all the people all the time”. ~Quoted by Supreme Court of Pakistanــ
’’آپ، تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں، کچھ کو ہمیشہ کے لیے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔‘‘
پانامہ کے فیصلہ پر ملک میں دو طرح کا شور اٹھا، ایک تو اس فیصلہ کی خوشی میں حزب اختلاف کی خوشی کا شور تھا تو دوسری طرف، برطرف اور ناہل ہونے والے حکمران میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کاکہرام۔ اس دوران نواز شریف نے ملک بھر میں شور مچایا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ یعنی کس بناء پر انہیں برطرف کیا گیا۔۔۔
اللہ اللہ ان کی معصومیت
خیر جب ان کو وجہ بتائی گئی کہ آپ نے پاکستانی وزیر اعظم ہوتے ہوئے دوسرے ملک کا ورک پرمٹ (اقامتی و کاروباری اجازت نامہ، اقامہ ) لیا اور پھر اس پر کام کرتے ہوئے جو کچھ کمایا اس کو اپنے اثاثہ جات میں شمار نہیں کیا، تو نواز شریف نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا۔
پانامہ فیصلے کی نظر ثانی اپیل میں یہ سوال نہیں کیا گیا کہ مجھے میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر کیوں نکالا گیا، بلکہ یہ اعتراض کیا گیا کہ
اعتراض: جو تنخواہ نہ لی جائے وہ اثاثہ میں آتی ہی نہیں تو شمار کیا کرنا؟
جواب: اثاثہ صرف کیش یعنی نقد رقم کو نہیں کہتے، بلکہ ہر وہ چیز جو مال کے زمرہ میں آتی ہو اور اس کو کیش میں بدلا جا سکے اور ملکیت میں ہو، اثاثہ کہلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، پلاٹ، گاڑی وغیرہ اثاثہ ہیں۔ جو تنخواہ آپ نے کما لی، وہ آپ کی قابل استعمال اور قابل وصول رقم ہے جس کو اکاونٹنگ میں ریسیو ایبل (receivable) کہا جاتا ہے۔
معزز عدالت نے یہی نکتہ بیان کیا اور کہا چونکہ لفظ اثاثہ کا کوئی سب سے الگ مطلب نہیں جو کہ پاکستانی قانون نے اختیار کیا ہو، تو اس لیے اس کا بین الاقوامی اور عام فہم مطلب ہی لیا جائے گا۔ جو کہ بیان کیا جا چکا ہے۔
اس طرح اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ جو رقم آپ نے کما لی، چاہے وہ وصول کی یا نہیں، تو اثاثہ کہلائے گی۔
یاد رہے یہ وہ تنخواہ نہیں جو نواز شریف نے ابھی وصول کرنا تھی، بلکہ وہ تنخواہ ہے جو وہ چھ سال سے کما رہے ہیں۔ اور جولائی 2006 سے جنوری 2013 تک انہوں نے کسی بھی جگہ اس کو ظاہر نہیں کیا اور چھپائے رکھا۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں معزز جج صاحبان کا کہنا ہے کہ
(باوجود پانامہ لیکس کے ہم نے آپ کی تردید کے باعث خود سے کوئی ایکشن نہیں لیا جب تک کہ عوام نے ہم سے رجوع نہ کیا) ’’لیکن ہم اس بات پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے تھے کہ نواز شریف کے پوشیدہ اثاثے کا انکشاف ہوا، جوکہ تفتیش کے دوران سامنے آیا، اور انہوں نے اس کا ذکر کاغذات نامزدگی میں بھی نہ کیا، نہ ہی ہم صرف اس وجہ پر کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں عدل کا دامن چھوڑ سکتے تھے۔ ہمیں ان سے اعلٰی اقدار کی توقع تھی کیوں کہ وہ ملک کے سب سے بڑے عوامی عہدے پر فائز تھے۔
لیکن ہمیں مایوسی ہوئی کہ نوازشریف نے اٹھنے والے سوالات کے جوابات میں خیانت کی وہ کبھی مکمل سچ کے ساتھ سامنے نہیں آئے انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی، اور یہ بھول گئے کہ
آپ، تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں، کچھ کو ہمیشہ کے لیے لیکن تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
مبہم، ذومعنی اور موضوع سے ہٹ کر جوابات ہر جگہ کام نہیں آتے (دوسرے لفظوں میں عدالت میں لفظی کھیل نہیں چلتا)۔
اگر مقدر نے انہیں ملک کا وزیر اعظم بنا ہی دیا تھا تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اخلاقی قدروں کا مظاہرہ بھی کرتے۔ اگر کسی لیڈر کی خفیہ دولت سامنے آئے تو چاہیےہوتا ہے کہ استعفٰی دے دیں نہ کہ اقتدار سے چمٹے رہیں۔‘‘
اس کے بعد بھی اگر نواز شریف یہ سوال داغتے رہیں کہ مجھے کیوں نکالا تو ان کی عظیم ڈھٹائی کا ثبوت ہو گی جو اس سے پہلے شاید ہی کسی نے دکھائی ہو۔


0 تبصرے